ہندوستان میں سن بانوے کے دسمبر میں بابری مسجد کے نام سے جو تنازعہ اٹھا تھا بظاہر آج اس کا ڈاراپ سین ہوگیا اور الہ آباد ہائی کورٹ نےاپنا تاریخی فیصلہ سنا ہی دیا ۔اطلاعات کے مطابق ہائی کورٹ نے بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔فیصلے کے مطابق زمین کی ملکیت کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست کو 2-1کی اکثریت سے خارج کردیا ہے، جبکہ فیصلے سنانے والے جج ریٹائر ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہندوستانی کابینہ کی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ہندوؤں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی ۔ چھے دسمبر انیس سوبانوے کو انتہا پسند ہندووں نے قوم پرست ہندو تنظیموں کے اکسانے پربابری مسجد کو شہید کرکے عارضی طورپر ایک مندر بنادیا تھا۔ جس کے بعد سارے ہندوستان میں فسادات پھوٹ پڑے تھے جن میں ہزاروں افراد مارے گئےتھے اور ان میں زیادہ تر تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ہندوستان میں بابری مسجد کے فیصلے کےپیش نظر فسادات کا خدشہ ظاہرکیا جارہا ہے ۔فیصلہ پر ممکنہ فسادات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہندوستانی فضائیہ فوجیوں کو متاثرہ علاقے میں منتقل کرنے کے لیے تیار رہے گی۔اس کے علاوہ ایس ایم ایس بھیجنے پر پابندی عائد ہے جبکہ دہلی اور حیدرآباد دکن میں ڈبل سواری اور مختلف علاقوں میں پارکنگ پر پابندی ہے۔فسادات کے خطرے کے پیش نظر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے عوام سے پرامن رہنے کی درخواست کی ہےلیکن اب ہوگا کیا اس پر جن خدشات اور اندیشوں کا اظہار کیا جارھا ہے وہ اپنی جگہ اٹل اور انتظامیہ بے بس دکھائی دے رھی ہے۔ بابری مسجد کی زمین وفاق کے پاس رہیگی بھارت کی الہ آباد ہائی کورٹ بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔ الہ آباد کی ہائی کورٹ کے تین رکنی لکھنو بینچ نے سنی سینٹرل وقف بورڈ اور آکھیل بھارت ہندو مہاسبھا کے درمیان 2.7 ایکڑ زمین کے تنازع کے فیصلے کی تفصیلات سے وکلاء نے صحافیوں کو آگاہ کیا۔فیصلے کے مطابق زمین کی ملکیت کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست کو 2-1 کی اکثریت سے خارج کردیا ہے، جبکہ فیصلے سنانے والے جج ریٹائر ہوگئے ہیں۔ علاوہ ازیں بھارتی کابینہ کی سکیورٹی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے؛ عدالتی فیصلے کے بعد ممکنہ فسادات روکنے کے لیے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں. بھارتی ریاست اتر پردیش میں انتظامیہ نے19علاقوں کو حساس قرار دیتے ہوئے ایک لاکھ نوے ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ فیصلہ پر ممکنہ فسادات کا مقابلہ کرنے کے لئے بھارتی فضائیہ فوجیوں کو متاثرہ علاقے میں منتقل کرنے کے لیے تیار رہے گی۔ اس کے علاوہ ایس ایم ایس بھیجنے پر پابندی عائد ہے جبکہ دہلی اور حیدرآباد دکن میں ڈبل سواری اور مختلف علاقوں میں پارکنگ پر پابندی ہے۔فسادات کے خطرے کے پیش نظر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد خاص طور پر اداکاروں نے عوام سے پرامن رہنے کی درخواست کی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنئوبینج نےاپنےتاریخی فیصلےمیں متنازعہ زمین کو رام جنم بھومی قراردیاہے اورکہاہےکہ مورتی اپنی جگہ سےنہيں ہٹائی جائےگی جبکہ گنبد کے باہر کی زمین مسلمان گروپوں، نرموہی اکھاڑا اور رام جنم بھومی نیاس کےدرمیان تقسیم کردی جائے۔مختلف عدالتوں میں تقریباً ساٹھ سال بحث ومباحثےکےبعد آج یہ فیصلہ سنایا گیا ہے۔اپریل دو ہزار دو سے الہ آباد ہائی کورٹ نے متنازعہ زمین کے حق ملکیت سے متعلق مقدموں کی سماعت شروع کی تھی۔ بابری مسجد پندرہ سو اٹھائیس میں مغل بادشاہ بابر کےایک اہلکار نے تعمیر کرائی تھی۔مؤرخین کے مطابق مندر مسجد کے تنازعہ نے پہلی مرتبہ اٹھارہ سو ترپن میں تشدد کی شکل اختیار کی تھی اور تبھی مسجد کے اندرونی احاطے میں مسلمانوں کو اورباہر کے احاطے میں ہندؤں کو عبادت کی اجازت دی گئي تھی۔چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ہندو کار سیوکوں نے بابری مسجد شہید کر دی تھی۔ بابری مسجد میں 1949 میں جبراً مورتی رکھنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے اس مسجد میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اس پر تالہ لگا دیا تھا۔ فیض آباد کی ایک مقامی عدالت نے 1986 میں اسے ہندوؤں کے لیے کھول دیا تھا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندی برقرار رکھی تھی۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنئوبینچ کے جسٹس ڈی وی شرما، جسٹس یوایس خان اور جسٹس سدھیراگروال نےیہ فیصلہ سنایا۔واضح رہےکہ ہائی کورٹ کوچوبیس ستمبرکوہی یہ فیصلہ سنادیناتھا لیکن رمیش چندرترپاٹھی کی اپیل پرفیصلہ ایک ہفتےکےلئےٹال دیاگیاتھا۔فیصلہ آنے سے پہلے حکومت اور ملک کے سبھی طبقوں نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور مختلف تنظیموں نے بھی اس بارے میں کھل کر بیانات دیے ہیں۔کانگریس کی صدر سونیا گاندھی نے کہا ہےکہ ہم جانتے ہیں کہ اس بہت ہی حساس مسئلے پر عدالت کی غیر جانبداری کو قبول کرنے کی عوام نے خواہش ظاہر کی ہے۔‘بھارتیہ جنتا پارٹی کے بھی کئی رہنماؤں نے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان قاسم رسول الیاس، سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی اور دیگر مسلم رہنماؤں نے بھی فیصلے سے قبل علیحدہ علیحدہ بیانات جاری کئے ہیں جس میں عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔بیانات میں کہا گیا تھا کہ اگر فیصلہ ان کے حق میں آئے تو وہ اس پر خوشی کے اظہار کے لئے کوئی ہنگامہ نہ کریں اور اگر ان کے حق میں نہ ہو تو اسے احترام سے تسلیم کریں اور کوئی بھی غیر قانونی قدم نہ اٹھایا جائے۔ہندو نواز تنظیمیں جیسے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور ہندو سبھا نے بھی امن کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ قانون کا احترام کیا جائیگا۔ دونوں فریق پر امید تھے کہ فیصلہ ان کے حق میں ہی آئےگا۔مختلف ریاستوں میں اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں اور میڈیا کی جانب سے بھی احتیاطی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔تمام ٹیلی ویژن چینلز نے بذات خود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ کوئی بھی اشتعال انگیز بیان نشر نہیں کریں گے اور ایسی تصویریں بھی نہیں دکھائی جائیں گی جن سے امن کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہو۔دوسری جانب سے بابری مسجد کیس کے فیصلے پر ہندو اورمسلمانوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے بھارت کے الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے برسوں سے زیر التوا بابری مسجد کیس کے فیصلے ہندو اور مسلمان دونوں نے مسترد کر دیا ہے۔ بابری مسجد کیس میں مسلمانوں کے وکیل ظفر یاب جیلانی کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ابھی زمین کی تقسیم میں تین ماہ کا عرصہ باقی ہے لیکن عدالت یہ تسلیم کر چکی ہے کہ اس جگہ مسجد قائم تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں بابری مسجد کی ملکیت کے حوالے سے دیئے گئے فیصلے پر اپیل کا حق دیا گیا ہے۔دوسری جانب رام جنم بھومی ٹرسٹ کے سربراہ نرتیا گو پال داس کا کہنا ہے کہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی اور وہ سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کریں گے اور وہ مسلمانوں کو دئے گئے زمین کے ٹکڑے کو بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔
........
/110